حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی نژاد اسرائیلی تجزیہ کار نے اسلامی جمہوریہ ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران ایک وسیع جغرافیہ اور قابلِ ذکر عسکری طاقت رکھنے والا ملک ہے اور امریکہ نہ تو اس کے خلاف ایک ہمہ گیر جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نہ ہی اس میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایران ہے، اسپین نہیں۔ عسکری نقطۂ نظر سے ایران کو شکست دینا تقریباً ناممکن ہے۔ پینٹاگون بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ کر اس میں کامیابی حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
انہوں نے خطے کی آبادیاتی ساخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ عراق کے اہم حصوں، سعودی عرب کے تیل پیدا کرنے والے علاقوں، کویت اور بحرین میں شیعہ آبادی نمایاں تعداد میں موجود ہے، لہٰذا ایران کے ساتھ کسی بھی بڑے پیمانے کی جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہمہ گیر آگ میں جھونک سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی جرنیل خودکشی نہیں کرنا چاہتے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ایسی جنگ میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے اور وہ متعدد بار اس کے سنگین نتائج سے خبردار بھی کر چکے ہیں۔
اس روسی نژاد اسرائیلی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ واشنگٹن کا بنیادی ہدف ایران میں نظام کی تبدیلی ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ایران میں نظام کی تبدیلی تقریباً ناممکن ہے۔
انہوں نے بعض امریکی حلقوں کی تشخیص پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ماہرین اپنے ذہنی زاویے سے تجزیہ کرتے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کی حقیقی صورتِ حال سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ معاشی مشکلات بالآخر نظام کے خاتمے کا سبب بنیں گی، حالانکہ وہ خود بھی نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
آخر میں انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ایران کا نظام مضبوطی کے ساتھ قائم ہے اور کوئی فرد یا کوئی طاقت اسے خطرے سے دوچار نہیں کر سکتی۔ حتیٰ کہ اگر ایرانی عوام کو مزید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے، تب بھی یہ نظام برقرار رہے گا۔









آپ کا تبصرہ